اردو ادب پر جتنا احسان میر حسن کے گھرانے کا ہے اتنا کسی کا نہیں۔ میر حسن نے خود غزل کو چھوڑ کر مثنوی کو اپنایا اور اسے درجہ کمال تک پہنچا دیا جب کہ ان کے پوتے میر ببر علی انیس نے مرثیہ میں وہ نام کمایا کہ اس صنف میں کوئی ان کا ثانی نہیں۔ ان دونوں کے بغیر اردو شاعری غزل تک محدود ہو کر رہ جاتی۔ کوئی بلند پایہ ممدوح نہ ہونے کے باوجود قصیدہ کو سودا جس درجہ تک لے گئے تھے اس میں مزید کسی وسعت کی گنجائش نہیں تھی۔ میر حسن اور انیس نے اردو شاعری کو،غزل کی روش عام سے ہٹ کر جس طرح مالامال کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔میر حسن کے جد اعلیٰ عہد شاہجہانی کے اواخر میں ہرات سے آ کر دہلی میں بس گئے تھے۔ یہیں 1727 ء میں میر حسن پیدا ہوئے۔ ان کے والد میر ضاحک شاعر تھے ۔ شعر و شاعری کا شوق لڑکپن سے تھا وہ خواجہ میر درد کی صحبت میں رہنے لگے اور وہی شاعری میں ان کے پہلے استاد تھے۔میر حسن نے سحرالبیان، گلزار ارم اور رموز العارفین کے علاوہ کئی دوسری مثنویاں بھی لکھیں۔ لیکن جو مقبولیت ان کی آخری مثنوی سحرالبیان کو ملی ویسی کسی مثنوی کو نہیں ملی ۔میر حسن کے چار بیٹے تھے اور سبھی شاعر تھے جن میں انیس کے والد میر مستحسن خلیق نے بہت اچھے مرثئے لکھے لیکن بیٹے کی شہرت انہین پسِ پشت ڈال گئی۔ 1785ء میں میر حسن کا انتقال ہو گیا۔